رونق بازار

قسم کلام: صفت ذاتی

معنی

١ - بازار کی چہل پہل: کنایۃً مشہور، عام۔  یوسف سے اپنے عہد میں کچھ کم نہیں ہے تو تیرا بھی حسن رونقِ بازار ہو گیا      ( ١٨٢٤ء، مصحفی، انتخاب رامپور، ٢٣ )

اشتقاق

عربی سے مشتق اسم 'رونق' کے ساتھ فارسی زبان سے ماخوذ اسمِ ظرفِ مکاں 'بازار' ملانے سے مرکب بنا۔ اردو میں بطورِ اسم صفت استعمال ہوتا ہے۔ سب سے پہلے ١٨٢٤ء میں "دیوانِ مصحفی" میں مستعمل ملتا ہے۔